
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) — راولپنڈی کے علاقے گرجا روڈ پر واقع ایک مکان سے افغانستان سے لائی گئی 17 سالہ لڑکی نوشابہ نے زبردستی شادی کی کوشش پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے مدد طلب کی، جس پر تھانہ دھمیال پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نوشابہ اور اس کی والدہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق، متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں تشدد، سنگین نتائج کی دھمکیوں اور زبردستی نکاح کی کوشش پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ایف آئی آر کے مطابق، نوشابہ اور اس کی والدہ چار روز قبل افغانستان سے کچلاک کے راستے راولپنڈی پہنچی تھیں، جہاں مالے خان نامی شخص نے ان کی رہائش کا بندوبست کیا۔ نوشابہ کی شادی مالے خان کے بھائی گل خان سے طے کی گئی تھی، لیکن گل خان کو دیکھتے ہی لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا۔
بتایا گیا ہے کہ 22 اگست کی رات مالے خان نے زبردستی نکاح خواں کو بلایا، تاہم نوشابہ کے شور مچانے پر نکاح خواں موقع سے فرار ہو گیا۔ اس پر مشتعل ہو کر مالے خان نے اپنی بہن ناطی کے ساتھ مل کر نوشابہ کو تھپڑ مارے، گالیاں دیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
قانونی کارروائی جاری، متاثرہ کو تحفظ فراہم
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور زبردستی شادی کی کوشش میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔