
تحقیقات میں انکشاف: سرسبز اور قدرتی مقامات ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کم کرنے میں موثر
ماہرین نفسیات اور صحت کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں یہ ثابت کیا ہے کہ سرسبز اور قدرتی مقامات پر وقت گزارنا ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں نمایاں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق قدرتی مناظر دیکھنے سے دماغ کے وہ حصے جنہیں "امیگڈالا” (amygdala) کہا جاتا ہے اور جو ذہنی دباؤ اور تناؤ کے ردعمل کے ذمہ دار ہوتے ہیں، کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ اس سے دل و دماغ کو سکون ملتا ہے اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرسبز ماحول میں چہل قدمی یا وقت گزارنے سے دماغ میں سیروٹونن اور اینڈورفنز جیسے مثبت ہارمونز کی مقدار بڑھتی ہے، جو ڈپریشن کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں، قدرتی ماحول میں وقت گزارنا جسم کی فطری گھڑی (circadian rhythm) کو بہتر بناتا ہے جس سے نیند کی کوالٹی میں اضافہ ہوتا ہے اور ڈپریشن کی شدت کم ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پارک، باغ یا دیگر قدرتی جگہوں پر جانے والے افراد زیادہ میل جول کرتے ہیں، جس سے تنہائی اور ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔ علاوہ ازیں، قدرتی سورج کی روشنی وٹامن D کا اہم ذریعہ ہے جو موڈ ریگولیشن اور ڈپریشن سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق، روزانہ 20 سے 30 منٹ صرف قدرتی ماحول میں گزارنا بھی ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی علامات کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔
ماہرین صحت اس اہم دریافت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہری زندگی کی تیز رفتاری اور اسکرین ٹائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان، فطرت کے قریب وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے ایک مؤثر اور سادہ حل ثابت ہو سکتا ہے۔