
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ دواؤں کی قیمتوں میں ڈی ریگولیشن کا فیصلہ عوام اور انڈسٹری دونوں کے لیے فائدے کی نیت سے کیا گیا تھا، تاہم مارکیٹ رپورٹس اور موجودہ صورتحال کے مطابق یہ فیصلہ الٹا مہنگائی کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ادویات کی قیمتوں میں 10 گنا تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جیسے 7 روپے والی دوا اب 70 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
وزیر صحت کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، سروے ہو رہا ہے اور کارٹل بنانے والوں کے خلاف کارروائی رپورٹ کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس سنگین صورتحال کا سختی سے نوٹس لے رہی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔