
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق آٹھ مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔ عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فریقین کو حتمی حکم نامے کے لیے چیمبر میں طلب کرلیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کیس میں جو آبزرویشنز دی تھیں، وہ عبوری نوعیت کی نہیں بلکہ حتمی محسوس ہوتی تھیں، جو قانون کے مطابق قابل قبول نہیں۔
بینچ میں تبدیلی
سماعت سے قبل تین رکنی بینچ میں تبدیلی کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو بینچ کا حصہ بنایا گیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے کیس کی سماعت کی۔
عدالتی ریمارکس اور پراسیکیوٹر کے دلائل
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی سے سوال کیا کہ آیا ضمانت کے مقدمے میں عدالت حتمی آبزرویشن دے سکتی ہے؟ نیز، اگر دیگر مقدمات میں سازش کے الزامات کے باوجود ملزمان کو ضمانت ملی تو یہ اصول عمران خان کے کیس پر کیوں لاگو نہیں ہوگا؟
پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت کیس میں دی گئی عدالتی آبزرویشنز ہمیشہ عبوری نوعیت کی ہوتی ہیں، جو ٹرائل کو متاثر نہیں کرتیں۔ انہوں نے 1996 سے 2024 تک کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں یہی اصول اپنایا گیا۔
سازش کے مقدمات کا حوالہ
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اعجاز چوہدری کیس سمیت دیگر مقدمات کا حوالہ دیا جن میں سازش کے الزامات کے باوجود ضمانت منظور کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ ان تمام مقدمات میں سپریم کورٹ نے سازش جیسے سنگین الزامات کے باوجود ضمانت دی، اس لیے استغاثہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کا کیس ان سے مختلف کیوں ہے۔
پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ایف آئی آرز میں نامزدگی موجود ہے، اور ان کے خلاف تین گواہان کے بیانات و دیگر الیکٹرانک شواہد موجود ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پولی گرافک ٹیسٹ کی اجازت کے باوجود عمران خان نے ٹیسٹ نہیں کرائے۔
عدالتی مشاہدات
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ مقدمے کے میرٹس پر بات نہیں کرے گی کیونکہ اس سے ٹرائل متاثر ہو سکتا ہے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ اگر میرٹس پر بات کریں گے تو ملزم کے وکیل کو بھی سننا ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعے کے بعد ملزم دو ماہ تک ضمانت پر رہا، تو کیا یہ وقت پولیس کے لیے تفتیش کے لیے کافی نہیں تھا؟
حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد 9 مئی کے آٹھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کرلی، اور ہدایت کی کہ حتمی فیصلہ چیمبر میں جاری کیا جائے گا۔