
اسلام آباد (20 اگست 2025) – سانحہ 9 مئی سے جڑے اہم مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی عدالت میں ہو رہی ہے۔ عدالت کی کارروائی جیل کے بجائے اسلام آباد کی ضلع کچہری میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو ہو رہی ہے، جہاں حساس نوعیت کے 12 مقدمات کی سماعت جاری ہے۔
اہم مقدمات میں جی ایچ کیو، آرمی میوزیم، حساس ادارے کے دفاتر پر حملے شامل
سماعت کے دوران جن مقدمات پر کارروائی ہو رہی ہے ان میں شامل ہیں:
جی ایچ کیو گیٹ نمبر 4 پر حملہ
راولپنڈی آرمی میوزیم پر حملہ
صدر میں حساس ادارے کی عمارت کو نشانہ بنانے کا کیس
میٹرو بس اسٹیشن کو نذر آتش کرنے کا واقعہ
ایک اور حساس ادارے کے دفتر پر حملہ
گواہان کے بیانات اور پیشیاں
جی ایچ کیو حملہ کیس میں اب تک 119 گواہوں میں سے 27 کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، جب کہ آج مزید 3 گواہوں کو طلب کیا گیا ہے۔
عدالت میں آج جن اہم شخصیات کی پیشی ہوئی ان میں شامل ہیں:
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد (عدالت میں حاضری لگوا کر روانہ ہوگئے)
پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی
سابق ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم
کرنل اجمل صابر
چالان کی نقول کی تقسیم
9 مئی کے 11 دیگر مقدمات میں آج ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کرنے کا عمل بھی مکمل کیا جا رہا ہے، تاکہ باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ممکن ہو سکے۔
وکلا و پراسیکیوشن کی حاضری
عدالت میں پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے علاوہ وکلائے صفائی ملک فیصل اور حسنین سنبل بھی پیش ہوئے۔ عدالتی حکم کے باوجود بہت سے نامزد ملزمان عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔
پس منظر
سانحہ 9 مئی کے بعد ملک بھر میں حساس تنصیبات پر حملوں کے درجنوں مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں متعدد پی ٹی آئی رہنما، کارکنان اور دیگر سیاسی شخصیات نامزد ہیں۔ ان مقدمات کی حساس نوعیت کے پیش نظر طویل عرصے تک جیل ٹرائل جاری رہا، تاہم اب کچھ کیسز کو باقاعدہ عدالتوں میں