اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کسی قسم کی توسیع نہیں لے رہے، اور ملکی اداروں میں تسلسل کو توسیع کا نام دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ادارہ جاتی استحکام اور تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے، اور فوج کا کردار واضح، آئینی اور غیر سیاسی ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو اب حساب دینا ہوگا، اور جو عناصر ماضی میں ریاستی نظام کو نقصان پہنچاتے رہے، وہ اگر اب بھی سرگرم ہوئے تو قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے صحافی سہیل وڑائچ کے حالیہ انٹرویو سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا کسی کے ساتھ ون آن ون انٹرویو نہیں ہوا، اور ان سے منسوب معافی سے متعلق بیان صحافی کی ذاتی رائے یا تجویز ہو سکتی ہے، نہ کہ آرمی چیف کا مؤقف۔
یاد رہے کہ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف سے برسلز میں ہونے والی ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ "خدا نے مجھے ملک کا محافظ بنایا ہے، کسی عہدے کی خواہش نہیں” اور سیاسی مفاہمت کی صورت صرف "سچے دل سے معافی” مانگنے میں ہے۔
سینیٹر واوڈا کے اس بیان کو اداروں کے استحکام، آئینی کردار کی وضاحت اور قیادت کے غیر سیاسی طرزِعمل کے تسلسل کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔





