خیبر پختونخوا میں حالیہ قدرتی آفت کے بعد امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے اپیل ہے کہ وہ قومی سانحے کی اس گھڑی میں خیبر پختونخوا حکومت کا بھرپور ساتھ دے، جبکہ صوبائی حکومت دستیاب تمام وسائل متاثرین کی امداد کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے خوش آئند خبر دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں فوجی جوان راستے بحال کرنے، سڑکیں کھولنے اور پل تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ، پاک فوج نے صوبائی حکومت کو پانچ ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے ہیں تاکہ امدادی کاموں میں مزید تیزی لائی جا سکے۔
بیرسٹر سیف نے بتایا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھی بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست سے بالاتر ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔ "نہ کسی نے اس قدرتی آفت پر سیاست کی اور نہ ہم کریں گے، یہ ایک قومی سانحہ ہے اور پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا ساتھ دے،” انہوں نے کہا۔
دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل ریسکیو نے حوصلہ افزا اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں 60 خصوصی امدادی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں مسلسل ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔ صرف تین دن میں 5,210 افراد کو کامیابی سے ریسکیو کیا گیا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں پر مشتمل ایک ایلیٹ یونٹ بھی تشکیل دے کر بونیر روانہ کی گئی ہے جو وہاں اضافی امدادی کاموں کے لیے تعینات کی گئی ہے۔
یہ مربوط کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت، ادارے اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور ہم سب مل کر اس چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں۔





