
اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے مون سون کی موجودہ صورتِ حال پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ادارے مکمل متحرک اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال مون سون کی شدت معمول سے 50 فیصد زیادہ ہے، تاہم تمام متعلقہ ادارے، افواج پاکستان اور وفاقی حکومت پوری قوت سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ستمبر تک مزید تین اسپیل متوقع ہیں جن کے لیے پہلے سے تیاری مکمل کی جارہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "متاثرہ علاقوں میں فوری امداد، خوراک کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔” بونیر، باجوڑ اور بٹگرام جیسے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے باوجود رابطے بحال کیے جا رہے ہیں اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر ریلیف پیکجز متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے جا رہے ہیں جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کی بحالی اولین ترجیح ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کو پاکستان کا سنجیدہ چیلنج قرار دیتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ تمام وزارتیں اور ادارے مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے یقین دلایا کہ "آنے والے دنوں میں مون سون کی شدت کے باوجود ہم نقصان کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں گے اور بروقت اطلاعات فراہم کر کے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔”
این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ حالیہ بارشوں سے جانی نقصان ہوا ہے، لیکن ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی بروقت کارروائیوں نے کئی علاقوں میں بڑے نقصانات کو روکا ہے۔ ادارہ ہر لمحہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور قوم کو مکمل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔