
واشنگٹن — امریکی خاتونِ اول سابق میلانیا ٹرمپ نے جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن کے خلاف سخت قانونی قدم اٹھاتے ہوئے انہیں ایک ارب ڈالر ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ یہ نوٹس 6 اگست کو میلانیا کے وکیل الیخاندرو بریٹو کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں ہنٹر بائیڈن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یوٹیوب پر دیے گئے انٹرویو میں لگائے گئے الزامات فوری طور پر واپس لیں اور معافی مانگیں، ورنہ قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
ہنٹر بائیڈن نے ایک انٹرویو کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ میلانیا ٹرمپ کی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ذریعے کرائی گئی تھی، جو کہ میلانیا کے وکلاء کے مطابق سراسر غلط اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس خبر کی بنیاد پر یہ الزام لگایا گیا تھا، اسے بعد میں "ڈیلی بیسٹ” نے حذف کر کے معافی بھی مانگی تھی، لیکن ہنٹر بائیڈن نے اس دعوے کو مزید آگے بڑھایا۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہنٹر بائیڈن شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں اور ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ہنٹر بائیڈن نے نوٹس کی تردید کی اور اسے میڈیا میں لیک بھی کر دیا۔
میلانیا ٹرمپ کے ترجمان نے وضاحت کی کہ ان کی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات کی اصل تفصیلات ان کی خود کی کتاب "Melania” میں موجود ہیں اور کسی غلط فہمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین ایک مجرم تھے جن پر نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے اور انہوں نے جیل میں خودکشی کر لی تھی۔ ان کیسز میں ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی شہزادہ اینڈریو کے نام بھی زیرِ بحث آئے تھے۔