پاکستانتازہ ترین

پاکستان نیوکلر بلیک میلنگ پر یقین نہیں رکھتا، اثاثے صرف دفاع کے لیے ہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت محض دفاعی نوعیت رکھتی ہے، اور ملک کسی بھی قسم کی نیوکلر بلیک میلنگ میں نہ شریک ہے اور نہ ہی اس پر یقین رکھتا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع میں جنگ لڑی اور کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے لیے پاکستان سے جنگ کا تصور اب ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے، جو اسے نیند میں بھی پاکستان اور افواج پاکستان کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔

مودی کی سیاست اور بھارت کا بگاڑ

وزیر دفاع نے کہا کہ نریندر مودی کی سیاست نے بھارت کو اندرونی طور پر بھی کمزور کیا ہے اور اب بھارت کی چھوٹی ریاستوں اور کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مودی کو تنقید کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مودی صرف اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر خود بھارت کے عوام ان کی پالیسیوں کو جنگ کی جڑ قرار دے رہے ہیں۔

مودی کی پالیسیاں عالمی سطح پر بھارت کے لیے نقصان دہ

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کبھی علاقے میں ایک سیاسی و معاشی طاقت کے طور پر ابھرا تھا، مگر مودی کی قیادت میں اپنا مقام کھو بیٹھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی کی ناکامی بھارت کی اپوزیشن کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی ساکھ بحال کرے اور ایک مضبوط متبادل فراہم کرے۔

دہشتگردی میں بھارت کا ہاتھ

وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ بھارت نے نہ صرف پاکستان بلکہ کینیڈا میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کی پشت پناہی کی، اور نریندر مودی کے چہرے پر اب دہشت گردی کا دھبہ لگ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی بھارت کی پراکسیز ہیں، اور پاکستان ان کے خلاف ثبوت عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔

خطے میں امن کی خواہش

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر بھارت اچھے ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان کے ساتھ چلے تو برصغیر میں پائیدار امن ممکن ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو معاشی ترقی کے بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ پاکستان بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، اور اس کے برعکس خود کو دفاع تک محدود رکھتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button