
روس نے واٹس ایپ کالز پر پابندی عائد کر دی
ماسکو: روسی حکومت نے انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کی وائس اور ویڈیو کالز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ میٹا کے زیر انتظام واٹس ایپ پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور دہشت گردی کے معاملات میں تعاون نہ کرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روس نے واٹس ایپ کی کال سروسز کو روک کر صارفین کی معلومات تک رسائی محدود کر دی ہے، تاکہ اپنی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پابندی چین اور شمالی کوریا جیسے ممالک کی انٹرنیٹ نگرانی کی پالیسیاں کی ایک کڑی ہے۔ چین نے 2017 میں اپنے "گریٹ فائر وال” کے ذریعے اوورسیز سرورز کے ٹریفک کو بلاک کرنا شروع کیا تھا، جہاں صارفین متبادل ایپ وی چیٹ استعمال کرتے ہیں۔ شمالی کوریا میں بھی واٹس ایپ پر پابندی عائد ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بھی 2017 سے انٹرنیٹ وائس اور ویڈیو کالز پر پابندی تھی، تاہم ٹیکسٹ میسجز کی اجازت تھی۔ 2020 میں دبئی میں ایکسپو ورلڈ فیئر کے دوران واٹس ایپ اور دیگر ایپس کو کال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔