
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک اہم ڈیل اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جن میں یوکرین میں جاری جنگ کی صورتحال اور دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے فالواپ ملاقات کے لیے تین ممکنہ مقامات کا بھی ذکر کیا ہے، جہاں یہ بات چیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر مزید پابندیوں کے خدشات نے مذاکرات کا راستہ ہموار کیا ہے، لیکن فوری جنگ بندی کا امکان ابھی غیر یقینی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ پیوٹن سے ملاقات کے بعد وہ یوکرینی صدر سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلے رہیں اور امن کے امکانات بڑھ سکیں۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ صدر پیوٹن اور صدر ٹرمپ کی ون آن ون ملاقات میں صرف مترجم موجود ہوگا، جبکہ بعد ازاں دونوں ممالک کے وفود ورکنگ لنچ اور مشترکہ پریس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ملاقات میں یوکرین جنگ کے علاوہ امریکہ اور روس کے معاشی تعلقات کے مستقبل پر بھی بات چیت ہوگی۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ نے بھی صدر ٹرمپ کی روسی ہم منصب سے ملاقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے کہا کہ مکمل امن معاہدے کے لیے وقت درکار ہوگا، تاہم فوری جنگ بندی کی کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی گارنٹی اور سرحدی تنازعات پر بات چیت امن عمل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ملاقات کے ابتدائی لمحات میں ہی مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے آثار واضح ہو جائیں گے، اور امریکہ اور روس آئندہ دنوں میں جنگ بندی پر پیشرفت کے امکانات تلاش کریں گے۔