
ٹرمپ کی سہ فریقی امن کوشش: پیوٹن اور زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کی خواہش
واشنگٹن (بین الاقوامی ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس کا مقصد روس-یوکرین تنازع کے پرامن حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یہ ملاقات اسی صورت ممکن ہو سکتی ہے جب دونوں فریق، یعنی روس اور یوکرین، اس پر رضامند ہوں۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ جمعے کو الاسکا میں ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک تاریخی سربراہی اجلاس کرنے جا رہے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ اس ملاقات کے فوراً بعد زیلنسکی کو بھی شامل کر کے ایک سہ فریقی بات چیت کی جائے۔
پہلی براہِ راست ملاقات – 2021 کے بعد
یہ ملاقات 2021 کے بعد کسی بھی موجودہ امریکی صدر اور روسی صدر کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی، جسے بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یوکرین کو دعوت نہ دینا، خدشات میں اضافہ
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو جمعے کے اجلاس میں ابھی تک باضابطہ دعوت نہیں دی گئی، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے جو یوکرین کے مفادات کے خلاف ہو۔
انتخابی مہم اور امن وعدے
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ صدر بنتے ہی پہلے دن روس-یوکرین جنگ ختم کر دیں گے، تاہم اب تک ان کوششوں کو کسی واضح کامیابی کا سامنا نہیں ہوا۔
تبصرہ:
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی زیلنسکی کو مذاکرات میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، تاہم اگر ملاقات یکطرفہ ہوئی تو یہ خطے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔