
اسلام آباد (13 اگست 2025): وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات اور حکومت سے مذاکرات دو مختلف اور علیحدہ معاملات ہیں، جنہیں ایک دوسرے سے جوڑنا درست نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ انہیں عمران خان سے ملاقات سے غیر قانونی طور پر روکا جا رہا ہے، تو وہ توہین عدالت کی دوبارہ درخواست کیوں نہیں دیتی؟
"عدالتی احکامات پر عمل ہو رہا ہے”
رانا ثنا اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام عدالتی احکامات کے تحت ہی کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر پولیس نے واقعی کسی دن ملاقات سے روکا ہے، تو کل عدالت میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو بلا لیا جائے، سچ واضح ہو جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف محض میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس معاملے کو بار بار اچھال رہی ہے، جب کہ قانونی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے بیانات کے ذریعے سیاست کی جا رہی ہے۔
"پی ٹی آئی کا واحد ایشو ملاقات کا نہ ہونا ہے”
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس صرف یہی مسئلہ رہ گیا ہے کہ انہیں عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی، تو پھر آئیں اسی پر مذاکرات کر لیتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "وزیر اعظم جب مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں تو پی ٹی آئی ملاقات کا رونا شروع کر دیتی ہے۔”