
لاہور (عدالتی رپورٹر): لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
زرتاج گل نے اپنے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد سے سنائی گئی دس سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے، تاہم عدالت نے واضح کر دیا کہ جب تک اپیل کنندہ ذاتی طور پر عدالت میں پیش نہیں ہوتی، کیس کی سماعت ممکن نہیں۔
تین اپیلیں، ایک مؤقف
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ زرتاج گل کی جانب سے اپیل سینئر وکیل بیرسٹر علی ظفر کے توسط سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ:
انسداد دہشت گردی عدالت نے بغیر شواہد کے سزا سنائی۔
مقدمے میں ان کا نام ہی شامل نہیں تھا۔
گواہوں کے بیانات میں تضادات موجود ہیں۔
فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
درخواست گزار نے اپیل میں عدالت سے استدعا کی کہ سزا کالعدم قرار دے کر انہیں بری کیا جائے۔
عدالت کا سخت مؤقف
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے:
"جب تک اپیل کنندہ عدالت میں پیش نہیں ہوگی، ہم کیس کی سماعت نہیں کر سکتے۔ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ، لیکن ہمارے سامنے پیش ہونا ضروری ہے۔”
بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ زرتاج گل ڈی جی خان میں موجود ہیں اور اس وقت صرف اعتراضی پٹیشن پر سماعت درکار ہے، تاہم چیف جسٹس نے دوٹوک انداز میں کہا:
"ہمارے پاس ایسی کئی اپیلیں زیرِ التواء ہیں، کسی کے ساتھ امتیازی سلوک ممکن نہیں۔ سرنڈر کیے بغیر کوئی اپیل نہیں سنی جائے گی۔”
سماعت ملتوی
عدالت نے زرتاج گل کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
پس منظر
یاد رہے کہ زرتاج گل کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات کے تناظر میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں سے ایک مقدمہ میں انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے انہیں سخت سزا سنائی تھی۔