سڈنی (ویب ڈیسک) – آسٹریلیا نے فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ آسٹریلیا آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطینی ریاست کی حمایت کرے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کے وعدوں اور سنجیدہ عزم کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں جاپان، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور اسرائیل کے رہنماؤں سے اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔
غزہ کی صورتحال سنگین، حماس کا مستقبل نہیں
البانیز نے کہا کہ:
“غزہ کی صورتحال دنیا کے بدترین خدشات سے آگے نکل چکی ہے۔ فلسطینی ریاست میں حماس کے لیے کوئی مستقبل نہیں ہونا چاہیے۔”
انہوں نے زور دیا کہ فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار راستہ ہے۔
اسرائیل پر تنقید، فوجی حل سے گریز کا مشورہ
آسٹریلوی وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ:
“اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔ فوجی کارروائی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔”
عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت میں اضافہ
آسٹریلیا سے قبل کئی دیگر ممالک نے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کے اشارے دیے ہیں:
نیوزی لینڈ ستمبر میں کابینہ کے ذریعے باضابطہ فیصلہ کرے گا۔
برطانیہ نے مشروط حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔
پرتگال، جرمنی اور مالٹا بھی حمایت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ: عالمی دباؤ میں اضافہ
ماہرین کے مطابق، آسٹریلیا کا یہ قدم عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم موڑ ہے، جو اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا باعث بنے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔





