
کابل/ننگرہار (ویب ڈیسک) – افغانستان نے پاکستان سے درآمد کیے گئے 15 ٹن لیموں کو ناقص اور کینکر بیماری سے متاثرہ قرار دے کر واپس بھیج دیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق یہ پھل صحت کے لیے مضر اور مارکیٹ میں فروخت کے قابل نہیں تھے۔
افغانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صوبہ ننگرہار کے ڈائریکٹر زراعت مولوی ولی محسن نے تاجروں کو متنبہ کیا ہے کہ صرف معیاری اور صحت مند پھل و سبزیاں ہی درآمد کی جائیں، تاکہ صارفین کی صحت اور مارکیٹ کے اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔
کینکر بیماری کیا ہے؟
ماہرین زراعت کے مطابق، کینکر ایک خطرناک بیکٹیریائی بیماری ہے جو خاص طور پر ترشاوہ پھلوں جیسے کینو، لیموں اور مالٹے کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کی شدت سے:
پتے جھڑنے لگتے ہیں
ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں
پھل وقت سے پہلے گر جاتے ہیں
پھلوں کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو جاتی ہے
کینکر بیماری کا سبب بننے والا بیکٹیریا "Xanthomonas axonopodis pv. citri” ہے، جو پاکستان سمیت کئی ممالک میں ترشاوہ پھلوں کو متاثر کرتا ہے۔
طورخم پر قرنطینہ عملے کی نگرانی میں واپسی
ننگرہار کے محکمہ زراعت، آبپاشی اور لائیوسٹاک کے مطابق، لیموں کیڑوں اور بیماری سے متاثرہ تھے، جس پر طورخم کے قرنطینہ عملے نے انہیں کلیئر نہ کرتے ہوئے واپس پاکستان بھیج دیا۔
محکمے کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی بار غیر معیاری زرعی اجناس طورخم بارڈر پر مسترد کر کے پاکستان واپس بھیجی جا چکی ہیں۔
پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے وارننگ
یہ واقعہ پاکستان کے برآمدکنندگان کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے زرعی اجناس کی معیاری جانچ یقینی بنائیں، تاکہ تجارتی ساکھ متاثر نہ ہو اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھی جا سکے۔