پاکستانصحت

سوشل میڈیا پر کافی میں کیڑے مکوڑوں کی مکسنگ کی بحث، امریکی FDA کی منظوری بھی شامل بحث

کراچی – سوشل میڈیا پر ایک بحث زور و شور سے جاری ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ کافی کے اندر تقریباً 10 فیصد تک کاکروچ (لال بیگ) یا دیگر کیڑے مکوڑے گرائنڈنگ کے عمل کے دوران مکس ہو جاتے ہیں، اور اس عمل کی امریکی فیڈرل ڈرگ اتھارٹی (FDA) نے بھی منظوری دی ہوئی ہے۔

یہ بات خاص طور پر بھارت کے شاکا ہاری (ویجیٹیرین) افراد کے لیے باعث تشویش بنی ہوئی ہے جو گوشت نہیں کھاتے اور صرف سبزیاں کھاتے ہیں، لیکن جب وہ کافی پیتے ہیں تو ان کے سامنے یہ حقیقت آتی ہے کہ کافی میں کاکروچ کا ماس موجود ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی بینز کی کاشت کے دوران کاکروچ ان بینز کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ چپک جاتے ہیں۔ جب یہ بینز فیکٹریوں میں آتے ہیں تو صفائی کا عمل ضرور ہوتا ہے مگر انسانی طاقت سے مکمل طور پر تمام کیڑے مکوڑوں کو الگ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے تقریباً 10 فیصد کاکروچ یا دیگر کیڑے مکوڑے بینز کے ساتھ گرائنڈ ہو جاتے ہیں۔

یہ موضوع خاص طور پر ان صارفین میں بحث کا باعث بنا ہے جو اپنی صحت اور خوراک کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں، اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس بارے میں تبادلہ خیال جاری ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button