
لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب کی جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور جلاؤ گھیراؤ کے تین مقدمات میں دائر عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔
عدالت کے جج منظر علی گل نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمر ایوب کی عدم پیشی پر ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔ عدالت نے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست کو بھی قبول نہ کیا، جس کے نتیجے میں تینوں مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی گئی۔
عمر ایوب نے ان مقدمات میں ضمانت کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کیا تھا، تاہم مسلسل غیر حاضری کے باعث عدالت نے سخت موقف اپنایا۔ یہ مقدمات 9 مئی 2023 کے جلاؤ گھیراؤ واقعات سے متعلق ہیں، جن میں جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور پر حملے شامل تھے۔
اس سے قبل عدالت نے ان کیسز میں پی ٹی آئی کے دیگر مرکزی رہنماؤں شبلی فراز، صاحبزادہ حامد رضا خان، زرتاج گل اور دیگر کو بھی سزائیں سنائی تھیں۔ ان عدالتی فیصلوں کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مذکورہ تمام رہنماؤں کو نااہل قرار دے دیا تھا۔
ای سی پی کے فیصلے کے تناظر میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹا دیا، جبکہ دیگر ارکان کی بھی قائمہ کمیٹیوں سے رکنیت ختم کر دی گئی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے شبلی فراز کو قائد حزب اختلاف سینیٹ کے عہدے سے برطرف کر دیا۔
یہ فیصلے پاکستان کی سیاسی فضاء پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، خاص طور پر آئندہ انتخابات کے تناظر میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مزید دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ عمر ایوب اور دیگر رہنماؤں کے لیے قانونی اور سیاسی چیلنجز مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔