
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے اربعین مارچ کا فیصلہ وقتی طور پر موخر کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور شیعہ علما کونسل کے ساتھ اہم مذاکرات کے بعد 7 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کرلیا ہے، جسے زائرین کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر مملکت طلال چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے کردار کو سراہتے ہیں، جنہوں نے مذاکراتی عمل میں پل کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اربعین کے موقع پر سڑک کے ذریعے سفر سے گریز کی درخواست کی گئی ہے تاکہ زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
طلال چوہدری نے مزید اعلان کیا کہ حکومت عراق کے ویزے کی مدت 60 روز تک بڑھوانے کے لیے اقدامات کرے گی، جب کہ بارڈر پر موجود پاکستانی طلبہ کو ایران میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ ایسے زائرین جن کے ویزے جاری ہو چکے ہیں، انہیں رعایتی ہوائی ٹکٹ فراہم کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ 2 سے 3 روز میں خصوصی فلائٹ آپریشن بھی شروع کیا جائے گا تاکہ زائرین کو محفوظ اور باوقار سفری سہولیات میسر آ سکیں۔ مزید برآں، اس پورے معاملے کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔
ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ رضوی نے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو زائرین کے مطالبات کی تکمیل کا ضامن مقرر کر دیا گیا ہے، جو تمام فریقین کے اعتماد کا مظہر ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اس موقع پر کہا کہ روضہ حضرت امام علی اور حضرت امام حسینؑ کی طرف جانے والا راستہ کوئی بند نہیں کر سکتا، یہ زائرین کا حق ہے اور حکومت ان کے تمام آئینی و مذہبی حقوق کا تحفظ کرے گی۔
یہ پیش رفت نہ صرف اتحاد بین المسلمین کی علامت ہے بلکہ زائرین اربعین کے لیے ایک بڑی خوشخبری بھی ہے، جس سے ان کے سفر کو آسان، محفوظ اور باعزت بنانے میں مدد ملے گی۔