اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ محض مقبولیت کو بے گناہی کی دلیل بنانا درست نہیں، کیونکہ مقبول ہونا الگ بات ہے، مگر حق پر ہونا الگ۔ انہوں نے کہا:
"شیطان بھی مقبول ہے، لیکن وہ کبھی فرشتہ نہیں بن سکتا۔”
اپنے خطاب میں انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن یہ حق آئین اور قانون کے دائرے میں استعمال ہونا چاہیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران اسمبلی کے مرکزی دروازے پر ہنگامہ آرائی کے باعث عمارت سے باہر نکلنے کے لیے متبادل راستہ استعمال کرنا پڑا۔
سابق اسپیکر پر تنقید، موجودہ اسپیکر کا دفاع
طلال چوہدری نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں محض دس منٹ میں 54 بلز منظور کیے گئے، جب کہ موجودہ اسپیکر اپوزیشن کو بھرپور وقت دیتے ہیں، جو تمام پارلیمانی جماعتوں کے لیے قابلِ تحسین رویہ ہے۔
دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤقف
وزیر مملکت نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور سوال اٹھایا:
"ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو یہاں لا کر کس نے بٹھایا؟ آپ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا ریاست کے ساتھ؟”
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 700 ارب روپے این ایف سی سے حاصل کرنے کے باوجود صوبے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کو مؤثر نہیں بنایا گیا۔ طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں اور کسی نئے آپریشن کی بات نہیں ہو رہی، تاہم جہاں قانون اجازت دے، وہاں کارروائی ضرور ہو گی۔
زائرین کی سہولت، ایران سے مذاکرات جاری
زائرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایران و اسرائیل کشیدگی کے باعث زائرین کے زمینی سفر پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے، تاہم ایرانی حکام سے مذاکرات جاری ہیں۔ اس ضمن میں مذاکرات کا دوسرا دور کراچی میں ہوگا، جس میں وہ خود شرکت کریں گے۔
طلال چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت زائرین کے لیے فضائی اور زمینی راستوں کو محفوظ اور سہل بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔





