
راولپنڈی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پی ٹی آئی کے نو ارکان اسمبلی و سینیٹ کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے نو رہنماؤں کو بغیر سماعت اور اپوزیشن لیڈرز کو سنے بغیر نااہل کیا گیا، جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ پارٹی کے خلاف جانبداری پر مبنی ہے اور پی ٹی آئی اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نااہل قرار دیے گئے ارکان کی جگہ کسی اور کو نامزد نہیں کرے گی، اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیے گئے رہنماؤں میں شبلی فراز، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، جنید افضل ساہی، محمد انصر اقبال، رائے حسن نواز، رائے حیدر علی اور رائے مرتضی اقبال شامل ہیں، جنہیں 9 مئی کے مقدمات میں سزا کے بعد ڈی سیٹ کیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے حالیہ احتجاجی تحریک کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے 170 اضلاع میں عوام نے بھرپور اور پرامن انداز میں احتجاج کیا اور واضح کیا کہ عوام آج بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا ایسا کمیشن ہے جو اسٹے آرڈر کے باوجود نااہلی کا فیصلہ کر رہا ہے، جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پی ٹی آئی نے نااہلیوں کے خلاف اپنی حکمت عملی کے تحت سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی زیرصدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ممکنہ احتجاج، نااہلیوں کو چیلنج کرنے کے قانونی آپشنز اور یوم آزادی 14 اگست کو ملک گیر مظاہروں پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے تاکہ عدلیہ کی توجہ آئینی اور قانونی امور کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔ ساتھ ہی، پارٹی نے آئندہ کے احتجاجات کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تمام اہم رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پارٹی کے بیانیے کو مضبوط کرنے اور عوامی حمایت بڑھانے پر اتفاق کیا۔