
لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی کال پر لاہور میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر سمیت متعدد پارٹی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے رہبر میں پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے ریلی نکالی، جس پر پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے رکن اسمبلی شعیب امیر کو حراست میں لے لیا، جبکہ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی کی بھی گرفتاری کی تصدیق ہوئی ہے۔
مزید گرفتاریاں اور الزامات
پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی فرخ جاوید مون نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے "ہماری گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے، شیشے توڑے اور اراکین اسمبلی کو زدوکوب کیا، حتیٰ کہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے۔”
ذرائع کے مطابق اب تک 6 سے زائد ایم پی ایز کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں:
معین قریشی (ڈپٹی اپوزیشن لیڈر)
فرخ جاوید مون
کرنل (ر) شعیب
ندیم صادق ڈوگر
خواجہ صلاح الدین
امین اللہ خان
اقبال خٹک
شامل ہیں۔
پولیس کا مؤقف
دوسری جانب، پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، جس میں ایک اہلکار کا سر پھٹ گیا۔ حکام کے مطابق کارروائی امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے کی گئی۔
انصاف لیگل فورم (ILF) کی قانونی کارروائی
صدر انصاف لیگل فورم (آئی ایل ایف) لاہور ملک شجاعت جندران نے بتایا کہ گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری ضمانتوں کے لیے لیگل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تین لیگل ٹیمیں لاہور کی مختلف کچہریوں میں موجود ہیں، جن میں:
ماڈل ٹاؤن کچہری
ضلعی کچہری
کینٹ کچہری
شامل ہیں، تاکہ قانونی کارروائی کے ذریعے کارکنان کی جلد رہائی ممکن بنائی جا سکے۔