
اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تحریک اب صرف ایک دن کے احتجاج تک محدود ہو چکی ہے، ان کے تمام سیاسی کارڈز ناکام ہو چکے ہیں اور اب ان کے پاس صرف "ناکامی کا کارڈ” بچا ہے۔
ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ عمران خان خود اپنی پیدا کردہ تباہی کی سرنگ میں داخل ہو چکے ہیں جس سے اب واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی کے بانی صرف ان لوگوں سے بات کرنا چاہتے ہیں جو پی ٹی آئی سے بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں رہا، عوام اس جماعت کے بیانیے سے بیزار ہو چکے ہیں۔ سلمان اور قاسم کی ویزا درخواستوں کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو پاکستانی شہری تسلیم نہیں کرتے۔
آل پارٹیز کانفرنس پر تنقید
آل پارٹیز کانفرنس کے حالیہ اعلامیے پر تبصرہ کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ اعلامیہ نہ صرف فوج کے خلاف بغض سے بھرا ہوا تھا بلکہ پاکستان کی ایک عظیم کامیابی — جسے انہوں نے "معرکۂ حق” قرار دیا — کا ذکر تک نہ کرنا افسوسناک اور شرمناک ہے۔
🇵🇰 ملک آگے بڑھ رہا ہے
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی سیاسی بحران موجود نہیں، یہ بحران صرف چند افراد کے ذہنوں میں پل رہا ہے جو ذاتی انا اور تلخی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق ملک کا نظام رواں دواں ہے، ادارے کام کر رہے ہیں، معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور پاکستان آگے کی جانب گامزن ہے۔
ایران سے تعلقات کی بہتری کا ذکر
سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا حالیہ دورہ پاکستان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایران-اسرائیل کشیدگی میں ایک ذمہ دار، متوازن اور مثبت کردار ادا کیا ہے، جسے دنیا تسلیم کر رہی ہے۔