
اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 5 تا 10 اگست کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بالخصوص دریائے چناب کے مرالہ، کھنکی اور قادرآباد کے مقامات پر، جبکہ دریائے جہلم کے منگلا کے بالائی علاقوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی تیزی متوقع ہے، اور سوات و پنجکوڑہ کے ندی نالوں میں بھی طغیانی کا اندیشہ ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً دریائے ہنزہ، شگر، ہسپر، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو کے ندی نالے بھی شدید بارشوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، شیرانی، ژوب اور سبی میں ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم 90 فیصد اور منگلا ڈیم 60 فیصد تک بھر چکا ہے، جو مزید بارشوں کی صورت میں خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔
حفاظتی ہدایات:
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ:
شہری علاقوں، خصوصاً شمال مشرقی و وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے لیے ڈی واٹرنگ پمپس تیار رکھے جائیں۔
لینڈ سلائیڈنگ یا ممکنہ سیلابی خطرات کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ندی نالوں، پلوں اور پانی سے ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے سختی سے اجتناب کریں۔
عوام کے لیے سہولت:
این ڈی ایم اے نے شہریوں کو موسم اور ممکنہ خطرات سے آگاہ رہنے کے لیے "پاک NDMA ڈیزاسٹر الرٹ ایپ” سے باقاعدہ اپ ڈیٹس لینے کی سفارش کی ہے۔