
امریکا میں جوہری سائٹ پر تابکار بھِڑوں کا چھتہ دریافت، ماہرین میں تشویش کی لہر
ساؤتھ کیرولائنا: امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے شہر آئکین میں واقع ایک غیر فعال جوہری ہتھیاروں کی تنصیب پر تابکاری سے متاثرہ بھِڑوں کا ایک چھتہ دریافت ہونے کے بعد ماہرین اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کی 27 جولائی کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ تابکار چھتہ سیویناہ ریور سائٹ پر معمول کی نگرانی کے دوران تین جولائی کو دریافت ہوا، جو لیکویڈ نیوکلیئر فضلے کے ذخیرہ ٹینک کے قریب ایک پوسٹ پر پایا گیا۔ حیران کن طور پر، اس چھتے سے خارج ہونے والی تابکاری کی سطح وفاقی حدود سے 10 گنا زیادہ تھی۔
چھتے کو تابکار کیسے قرار دیا گیا؟
حکام کے مطابق، تابکاری کا یہ اخراج ماضی کی جوہری سرگرمیوں سے بچ جانے والی باقیات (لیگیسی کنٹیم نیشن) کا نتیجہ ہے۔ یہ باقیات اس وقت کی ہیں جب سرد جنگ کے دوران اس سائٹ پر جوہری بم تیار کیے جاتے تھے۔
اہلکاروں نے فوری طور پر چھتے پر اسپرے کر کے بھِڑوں کو تلف کیا اور اسے ریڈیولوجیکل ویسٹ کے طور پر محفوظ طریقے سے ہٹا دیا۔ محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے زمین یا اردگرد کے علاقے میں کسی قسم کی آلودگی کے شواہد نہیں ملے۔
نگران ادارے کا ردعمل
دوسری جانب، سیویناہ ریور سائٹ واچ نامی ایک آزاد نگران ادارے نے اس سرکاری رپورٹ کو نامکمل اور غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق:
"رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ تابکار آلودگی چھتے تک کیسے پہنچی، بھِڑیں اس سے کیسے متاثر ہوئیں، یا کیا سائٹ پر مزید ایسے تابکار چھتے موجود ہو سکتے ہیں؟”
ماحولیاتی اور سائنسی خدشات
اس واقعے نے ماحولیاتی تحفظ اور تابکاری کے ممکنہ اثرات پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فطری حشرات بھی جوہری باقیات سے متاثر ہو رہے ہیں، تو یہ ایک انتہائی سنگین علامت ہے جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔