نئی دہلی: امریکی دباؤ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود بھارت نے روس سے خام تیل خریدنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے ملک کی آئل کمپنیاں روسی تیل کی خریداری سے روکنے کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت اور روس کے درمیان تیل سے متعلق طویل المدتی معاہدے موجود ہیں، جنہیں فوری طور پر منسوخ کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ بھارت کی چار سرکاری آئل ریفائنریز نے تازہ ترین مرحلے میں روسی خام تیل خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھائی، تاہم اس کا مطلب مکمل انکار نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مارکیٹ حالات کے پیش نظر عارضی فیصلہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ جو ممالک روس سے تیل خریدیں گے، ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس کے بعد امریکہ نے بھارت پر بھی 25 فیصد ٹیرف لاگو کر دیا۔
اس اقدام کے جواب میں بھارت نے امریکہ سے ففتھ جنریشن ایف-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ خریدنے میں دلچسپی ظاہر نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی توانائی ضروریات اور خارجہ پالیسی کو امریکی دباؤ کے تابع نہیں کرے گا اور روس کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔





