
واشنگٹن (عالمی خبر رساں ادارہ):
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت کی جانب سے روسی خام تیل کی خریداری پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی توقعات کے برعکس قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کا سخت مؤقف
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت روس سے خام تیل خرید کر اسے ریفائن کر کے آگے فروخت کر رہا ہے، جو کہ عالمی برادری کے اجتماعی مؤقف کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا:
"بھارت نے خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں ناکامی دکھائی ہے، اور اس کا یہ طرزِ عمل ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے۔”
تجارتی تعلقات پر اثرات
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق بھارت کے اس رویے نے امریکا کے ساتھ اس کے مستقبل کے تجارتی تعلقات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
وزیر خزانہ بیسینٹ نے واضح الفاظ میں کہا:
"امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پوری ٹیم بھارت کے حالیہ فیصلوں سے شدید مایوس ہے، اور آئندہ تجارتی معاہدے بھارت کے رویے سے مشروط ہوں گے۔”
پس منظر: روسی تیل پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے 14 جولائی کو ایک بیان میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس اعلان کے بعد بھارت کی کچھ سرکاری آئل ریفائنریز نے روسی خام تیل کی خریداری عارضی طور پر روک دی تھی۔
بھارت کا کردار
رپورٹس کے مطابق بھارت دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور گزشتہ سالوں میں وہ روسی سمندری خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا ہے، جس سے واشنگٹن اور نیٹو اتحادیوں کو تشویش لاحق رہی ہے۔