
اسلام آباد (1 اگست 2025):
پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار امریکا سے خام تیل کی درآمد کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی ریفائنری کمپنی سنرجیکو لمیٹڈ رواں سال اکتوبر 2025 میں ایک ملین بیرل (10 لاکھ بیرل) امریکی خام تیل درآمد کرے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ امریکا کی سب سے بڑی تیل ٹریڈنگ کمپنی Vitol Trading کے ذریعے طے پایا ہے۔ امریکی خام تیل کا معیار (گریڈ) سعودی عرب کے خام تیل کے مساوی بتایا جا رہا ہے، جس سے پاکستانی ریفائنریوں کو کوئی تکنیکی دقت پیش نہیں آئے گی۔
سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی
کمپنی کے نائب چیئرمین اسامہ قریشی نے رائٹرز سے گفتگو میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:
"یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب امریکا سے براہ راست خام تیل درآمد کیا جا رہا ہے۔”
ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے حالیہ تجارتی معاہدے اور امریکی حکومت کے ساتھ توانائی تعاون شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد پاکستان کی وزارت خزانہ اور وزارت پیٹرولیم نے مقامی ریفائنریوں کو امریکی خام تیل کی درآمد پر غور کرنے کی ہدایت دی، جس کے نتیجے میں سنرجیکو لمیٹڈ نے پہل کی۔
توانائی شعبے میں مثبت اشارے
معاشی ماہرین کے مطابق امریکا سے تیل کی درآمد نہ صرف خام تیل کے ذرائع کو متنوع بنانے کی جانب قدم ہے بلکہ اس سے قیمتوں میں استحکام اور طویل مدتی توانائی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔