اوورسیزتازہ ترین

امریکہ-بھارت تعلقات پر صدر ٹرمپ کا دوٹوک مؤقف: باہمی تجارت میں شفافیت کی نئی راہیں کھلنے کا امکان

واشنگٹن ڈی سی: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ تجارتی توازن بہتر ہو اور دونوں ممالک اپنے اپنے قومی مفادات کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پیغام میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو "دوستانہ مگر پیچیدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک عظیم قوم ہے، لیکن برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں توازن قائم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ٹیرف دنیا میں بلند ترین سطح پر ہیں، اور امریکہ اب چاہتا ہے کہ اس نظام میں شفافیت اور برابری ہو۔

ٹرمپ نے زور دیا کہ "ہم بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ تجارت دو طرفہ ہو اور یکطرفہ فائدے کا ذریعہ نہ بنے۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ہے کہ وہ اپنے تجارتی خسارے کو کم کرے اور ایسے اقدامات کرے جو طویل المدتی شراکت داری کو مضبوط کریں۔ ان کے مطابق بھارت کو روس سے اپنے دفاعی انحصار پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے، تاکہ عالمی سطح پر امن قائم رہ سکے۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کو بعض تجزیہ کار ایک نئے تجارتی معاہدے کی تیاری کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، جس میں امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کو بہتر اور متوازن بنایا جائے۔

انہوں نے روس سے بھارت کی توانائی اور دفاعی وابستگی پر تشویش ظاہر کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی تجارتی حکمت عملی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button