
اسلام آباد / واشنگٹن:
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والد اس وقت اڈیالہ جیل میں انتہائی خراب حالات میں قید ہیں اور ان کی صحت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے Just The News کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اب وہ صرف امریکا سے امید وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
جسمانی صحت اور قید کے حالات پر تشویش
قاسم خان نے انٹرویو میں کہا کہ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور جیل میں بنیادی انسانی سہولیات کی بھی کمی ہے۔
انہوں نے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔
عالمی برادری سے اپیل
عمران خان کے بیٹے نے عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس سیاسی انتقامی کارروائی کے خلاف آواز بلند کریں اور عمران خان کی رہائی کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
امریکہ میں ملاقاتیں اور مثبت اشارے
قاسم خان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر رچرڈ گرینل سے ملاقات کی، جو کہ حوصلہ افزا رہی۔
"انہوں نے ہماری بات مکمل توجہ سے سنی، ہم اس وقت امریکا سے مدد کی امید رکھتے ہیں،”
قاسم خان کا کہنا تھا۔
الیکشن 2024 اور پی ٹی آئی کی کامیابی
قاسم خان نے فروری 2024 کے عام انتخابات کے حوالے سے بھی رائے دی اور دعویٰ کیا کہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی، تاہم عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے نمایاں عوامی حمایت حاصل کی۔
پہلی بار آواز بلند کرنا
یاد رہے کہ قاسم خان اور ان کے بھائی سلیمان خان نے مئی 2024 میں پہلی بار اپنے والد کی قید پر عوامی سطح پر موقف اختیار کیا تھا۔ رواں ماہ انہوں نے امریکا کا دورہ کیا، جہاں متعدد امریکی قانون سازوں سے ملاقاتیں کیں اور عمران خان کی رہائی کے لیے سفارتی حمایت طلب کی۔