
اڈیالہ جیل میں جاری عدالتی کارروائی کے دوران چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیرِاعظم عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے بیٹے، قاسم اور سلیمان، احتجاج کے لیے پاکستان نہیں آئیں گے۔
حالیہ دنوں میں میڈیا پر یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان کے بیٹے والد کی رہائی کے لیے پاکستان آ کر احتجاج میں حصہ لیں گے۔ تاہم، آج کی سماعت کے دوران عمران خان نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے احتجاج کے لیے واپس نہیں آ رہے۔
ذرائع کے مطابق، آج کی سماعت میں عمران خان کے ساتھ ان کے وکلا بھی موجود تھے۔ ایک سوال کے جواب میں، جب ان سے 5 اگست کی ممکنہ تحریک اور بیٹوں کی شرکت سے متعلق دریافت کیا گیا، تو انہوں نے صاف کہا: "نہیں، وہ احتجاج کے لیے نہیں آئیں گے۔”
یاد رہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور کچھ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے قبل ازیں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ عمران خان کے بیٹے احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔ تاہم عمران خان کے تازہ بیان نے تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔
اس کے باوجود، اگر عمران خان کے بیٹے اپنے والد سے ملاقات کی غرض سے پاکستان آتے ہیں، تو قانونی طور پر اُنہیں ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھی گئی ہیں۔
یہ بیان عمران خان کے اس اصولی مؤقف کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پارٹی کی جدوجہد کو مقامی قیادت اور عوامی قوت سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں، نہ کہ اسے خاندانی رنگ دینے کے حامی ہیں۔