
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے ’سردار جی 3‘ کی حمایت میں زور دار موقف اپنایا
چنڈی گڑھ:
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے معروف اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’سردار جی 3‘ کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے سکھوں اور پنجاب کے ساتھ رویے پر شدید تنقید کی ہے۔
اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھگونت مان نے کہا کہ دلجیت دوسانجھ کی فلم کی شوٹنگ پہلگام واقعے سے قبل مکمل ہو چکی تھی، مگر اس میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے اسے بھارت میں ریلیز ہونے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا:
"پنجابیوں کا کلچر، زبان اور روایات چاہے سرحد کے اس طرف ہوں یا اُس طرف، ایک جیسی ہیں۔ ہم سب پنجابی بولتے ہیں، لیکن اس کے باوجود دلجیت کی فلم کو غدار کہہ کر روک دیا گیا۔”
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پنجاب نے ملک کی خاطر لڑائیاں لڑی ہیں اور قربانیاں دی ہیں، لیکن اب انہیں غدار کہا جا رہا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ:
"پنجاب کا قصور کیا ہے؟ ہم سے بڑا دیش بھکت کوئی نہیں۔”
پنجاب کی اہمیت پر زور
بھگونت مان نے پنجاب کے لوگوں کو بے وقعت سمجھنے والے نظریات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان سے لڑو، کبھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ میل جول بڑھاؤ۔ انہوں نے کہا:
"ہم پورے بھارت کو بتانا چاہتے ہیں کہ پنجاب اور ہریانہ کے بغیر آپ روٹی نہیں کھا سکتے، کیونکہ ملک کی 70 فیصد غذائی ضروریات پنجاب میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔”
فلم ’سردار جی 3‘ پر پابندی
دلجیت دوسانجھ اور پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی مشترکہ فلم ’سردار جی 3‘ کو بھارت میں پہلگام واقعے کے بعد پابندی کا سامنا ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ فلم کامیابی سے ریلیز ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکام نے متعدد پاکستانی فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ موقف بھارتی پنجاب میں بڑھتے ہوئے علاقائی وقار اور فنکارانہ تعاون کی حمایت کا مظہر ہے، جو ایک طرف سیاسی کشیدگی کے باوجود ثقافت اور فن کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔