
گوادر: بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر کے قریب ماہی گیروں کی کشتی الٹنے کے المناک واقعے میں پانچ ماہی گیر ڈوب کر جاں بحق ہو گئے، جب کہ ایک کو زندہ ریسکیو کر لیا گیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب چھ ماہی گیر سمندر میں مچھلی کے شکار کے لیے گئے تھے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق دو ماہی گیروں کی لاشیں نکال کر کراچی منتقل کر دی گئی ہیں جہاں انہیں ورثا کے حوالے کیا گیا۔ باقی افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حادثے کا شکار ماہی گیر کراچی کے علاقوں ابراہیم حیدری، علی اکبر شاہ گوٹھ اور مچھر کالونی سے تعلق رکھتے تھے۔ جاں بحق افراد میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں۔ باپ ایوب کی لاش نکال لی گئی ہے جبکہ بیٹا ذیشان تاحال لاپتہ ہے۔
اس واقعے کے ساتھ ہی سندھ کے ساحلی علاقے ٹھٹھہ میں بھی کشتی حادثے کا ایک اور واقعہ رپورٹ ہوا ہے، جہاں دو ماہی گیر ڈوب گئے۔ ایک کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی لاش نکال لی گئی ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے، جبکہ مقامی ماہی گیر برادری میں شدید غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں مزید لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔