انٹرٹینمنٹ

"قبولیت کی تلاش میں ایک سفر”: کرن جوہر کا نوعمری کے کرب اور کامیابی تک کا سچ

ممبئی: بالی ووڈ کے ممتاز فلم ساز، ہدایتکار اور دھرما پروڈکشنز کے شریک بانی کرن جوہر نے اپنی زندگی کے ایک نہایت ذاتی اور حساس باب سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں بچپن اور نوجوانی میں اپنی شخصیت کے باعث شدید سماجی دباؤ، تمسخر اور عدم قبولیت کا سامنا رہا۔

معروف موٹیویشنل اسپیکر جے شیٹی کے یوٹیوب چینل پر دیے گئے انٹرویو میں کرن جوہر نے انکشاف کیا کہ بچپن میں اُن کی چال ڈھال، بول چال، اور دلچسپیاں اکثر اُن کے ہم عمر بچوں سے مختلف ہوا کرتی تھیں، جس کے باعث انہیں "غیر مردانہ” سمجھا جاتا تھا۔ فٹبال اور کرکٹ کھیلنے کی خواہش رکھنے کے باوجود وہ کبھی کسی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے، کیونکہ معاشرہ اُنہیں "لڑکوں جیسا نہیں” مانتا تھا۔

کرن نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا:

"میں بارہ برس کا تھا، اسکول میں روزانہ مذاق اُڑایا جاتا، یہاں تک کہ میں اسکول چھوڑنے کا سوچنے لگا۔ لیکن میری ماں نے مجھے سنبھالا، میرے آنسو پونچھے، اور کہا کہ حالات کا مقابلہ کرنا سیکھو۔”

ان کا کہنا تھا کہ اُن کی نوجوانی کی سب سے بڑی خواہش صرف اتنی تھی کہ وہ کسی گروپ کا حصہ بنیں، لوگوں میں قبول کیے جائیں، لیکن اُس وقت کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کہتا کہ وہ جیسے ہیں ویسے ہی قیمتی اور قابلِ احترام ہیں۔

کرن جوہر کی یہ سچائی آج کے نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ انفرادیت کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ وہ شخص، جو کبھی تنہائی اور عدم قبولیت کے اندھیروں سے لڑ رہا تھا، آج بھارتی فلم انڈسٹری کے سب سے کامیاب اور بااثر فلم سازوں میں شمار ہوتا ہے۔

حال ہی میں کرن جوہر فلم "دھڑک 2” کے پروڈیوسر کے طور پر سرخیوں میں آئے، جس میں سدھانت چترویدی اور ترپتی دمری مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے۔ یہ فلم شازیہ اقبال کی ہدایت کاری میں بنی ہے اور یکم اگست 2025 کو ریلیز کی جائے گی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button