
اسلام آباد: ایران کے نو منتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا پہلا مجوزہ دورہ عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ نئی تاریخ کے تعین کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ دورہ صدر پزشکیان کی بطور صدر پہلی سفارتی سرگرمی کے طور پر پاکستان کے لیے طے کیا گیا تھا، جو دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ اگرچہ موجودہ دورہ فوری طور پر ممکن نہ ہو سکا، تاہم حکام پرامید ہیں کہ نئی تاریخ جلد طے پا جائے گی۔
دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں جانب سے اس اہم دورے کی تیاریوں پر پیش رفت جاری ہے، اور جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
دوطرفہ تعلقات کی نئی جہت
ماہرین اور سفارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایرانی صدر کا مجوزہ دورہ پاکستان، دوطرفہ تعاون کو نئی وسعت دینے کے ساتھ ساتھ توانائی، تجارت، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے اہم امور پر مشاورت کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اقتصادی معاہدے، تجارتی راہداری کی سہولیات، اور بارڈر مینجمنٹ جیسے موضوعات زیر غور آئیں گے، جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے دیرپا فائدے کا باعث بن سکتے ہیں۔
دوستی کی مضبوط بنیاد
عوامی اور سفارتی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں، اور حالیہ سفارتی سرگرمیاں دونوں ممالک کو مزید قریب لا رہی ہیں۔
دورہ مؤخر ہونے کو ایک عارضی تعطل قرار دیتے ہوئے، تجزیہ کاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دورہ جلد ممکن ہوگا اور پاکستان و ایران کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔