
ناسا نے خلا سے چندرا ایکس-رے آبزرویٹری کی خوبصورت کہکشاؤں کی تصاویر جاری کر دیں
واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور ہاورڈ-اسمتھسونین سینٹر فار آسٹروفزکس نے خلا میں موجود چندرا ایکس رے آبزرویٹری کی جانب سے بھیجی گئی کہکشاؤں اور ستارہ ساز خطوں کی نو حیرت انگیز تصاویر جاری کی ہیں۔
یہ تصاویر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ، ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور چندرا آبزرویٹری جیسے اعلیٰ تکنیکی آلات سے حاصل شدہ ڈیٹا کو یکجا کر کے تیار کی گئی ہیں، جن میں دور دراز موجود کہکشاؤں کے پیچیدہ مناظر اور ستارہ سازی کے عمل کی جھلک دکھائی گئی ہے۔
ناسا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں درج ذیل اجرام فلکی شامل ہیں:
N79: ایک وسیع ستارہ ساز خطہ جو زمین سے تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔
NGC 2146: خم دار کہکشاں جو 44 ملین نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔
IC 348: ملکی وے کہکشاں کے اندر ایک معروف ستارہ ساز خطہ۔
M83: جسے سدرن پِن وہیل کہکشاں بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک خوبصورت گہرے نیلے رنگ کی کہکشاں ہے۔
M82: اُرسا میجر میں واقع یہ "سِگار کہکشاں” ہے جو دیگر کہکشاؤں کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ تیز رفتاری سے نئے ستارے پیدا کر رہی ہے۔
NGC 1068: سیٹس برج میں موجود ایک معروف اسکوئیڈ کہکشاں۔
NGC 346: ایک ستارہ ساز خطہ جہاں کم عمر ستارے جن کی عمر صرف 2 ملین برس سے بھی کم ہے، پائے جاتے ہیں۔
IC 1623: دو کہکشاؤں کا ایک جوڑا جو ایک دوسرے سے ٹکرا رہا ہے، جس سے فلکیاتی تصادم کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
Westerlund 1: ہماری ملکی وے کہکشاں کا سب سے کم عمر ستاروں کا جھرمٹ، جو محض 12 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ تصاویر کائنات کی وسعت، مختلف کہکشاؤں کے ساختی پیچیدگی اور ستارہ سازی کے عمل کو سمجھنے میں سائنسدانوں کی مدد فراہم کریں گی۔