پاکستانتازہ ترینروزگار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری، عوام کو مہنگائی کے نئے طوفان کا سامنا

اسلام آباد — حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں 3 سے 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کا مقصد گیس سیکٹر میں بڑھتے ہوئے 2800 ارب روپے کے گردشی قرضوں سے نمٹنا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس اقدام کے ساتھ ساتھ حکومت بینکوں سے 2000 ارب روپے تک قرض لینے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو درپیش مالی بحران کو قابو میں لایا جا سکے۔

وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کے درمیان اس اہم معاملے پر مشاورتی اجلاس آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جہاں پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر ممکنہ اقدامات پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کی سخت شرائط
دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل روڈ میپ پیش کرے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اس ضمن میں ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے تو مالیاتی امداد کی آئندہ قسط خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

عوامی مشکلات میں اضافہ
اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا تو نہ صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ گیس کے بلوں میں بھی اضافی سرچارج لگنے کا امکان ہے، جس سے عام صارف کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق، پہلے ہی مہنگائی کی شکار عوام پر یہ بوجھ ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔

بینک قرض اور ممکنہ آمدن
ذرائع کے مطابق، حکومت بینکوں سے آسان شرائط پر 2000 ارب روپے تک قرض حاصل کرنے کے لیے مختلف بینکوں سے مشاورت کر رہی ہے، جبکہ 800 ارب روپے کے سود میں کمی یا معافی کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔ اگر پیٹرولیم لیوی عائد کر دی گئی تو حکومت کو سالانہ 180 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے، جس سے جزوی طور پر قرض کی واپسی کی جا سکے گی۔

اصلاحاتی اقدامات ناگزیر
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں فوری اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو گردشی قرضے مزید بڑھ سکتے ہیں، جو معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ بجلی کی طرح گیس کے شعبے میں بھی اصلاحات کی رفتار تیز کرے تاکہ اندرونی وسائل سے مالی استحکام حاصل کیا جا سکے۔

آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کا آئندہ دور اسی ہفتے متوقع ہے، جس میں ان تمام اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button