
پاکستان کی بڑی سفارتی فتح: سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 متفقہ طور پر منظور
نیویارک / اسلام آباد: پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد 2788 (2025) کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے مضبوط اور مؤثر طریقہ کار کو فروغ دینا ہے۔
یہ قرارداد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں پیش کی، جسے دنیا بھر کے تمام رکن ممالک کی جانب سے اتفاق رائے سے قبول کیا گیا۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی بڑی کامیابی اور عالمی امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
قرارداد کا عنوان اور مرکزی نکات
قرارداد کا عنوان تھا:
"تنازعات کے پرامن حل کے لیے طریقہ کار کو مضبوط بنانا”
(Strengthening Mechanisms for the Peaceful Settlement of Disputes)
اس میں درج ذیل نکات کو اجاگر کیا گیا:
سفارت کاری، ثالثی، مذاکرات اور اعتماد سازی کو تنازعات کے حل کے لیے کلیدی ذریعہ قرار دینا
طاقت کے استعمال سے گریز اور پرامن ذرائع کو اولیت دینے کی تاکید
رکن ممالک پر زور کہ وہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں
علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں کو پرامن کوششوں کو تیز کرنے اور اقوام متحدہ سے قریبی تعاون کی اپیل
پاکستان کا مؤقف: امن کے لیے متحرک کردار
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا:
“پاکستان پرامن بقائے باہمی اور عالمی استحکام پر یقین رکھتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں تنازعات طاقت کے بجائے بات چیت، سفارتکاری اور اعتماد سازی سے حل کیے جائیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کو تنازعات کے حل میں فعال، منصفانہ اور غیرجانبدار کردار ادا کرنا چاہیے۔
اقوام عالم کا مثبت ردِعمل
سلامتی کونسل کے تمام مستقل اور غیر مستقل اراکین نے پاکستان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ:
“یہ قرارداد بین الاقوامی امن و سلامتی کو فروغ دینے میں ایک متوازن اور تعمیری قدم ہے۔”
قومی و عالمی سطح پر پذیرائی
پاکستانی وزارت خارجہ نے اس کامیابی کو "تاریخی” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے فعال، اصولی اور تعمیری کردار کی واضح علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کی عالمی پالیسی میں نئے اعتماد اور اثرورسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔
نتیجہ: عالمی قیامِ امن میں پاکستان کا قائدانہ کردار
قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری سے دنیا کے سامنے پاکستان کا یہ پیغام واضح ہو گیا ہے کہ:
"پاکستان تنازعات میں شدت نہیں، بلکہ پرامن حل کا داعی ہے۔”
یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مثبت، مؤثر اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔