اوورسیزتازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: پاک-بھارت کشیدگی کے دوران جنگ رکوانا میری کامیابی، 5 طیارے گرائے گئے

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان 2019 کی کشیدہ صورتحال کے دوران ممکنہ جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مداخلت نہ کی جاتی تو ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ گفتگو ریپبلکن قانون سازوں کے ایک اجلاس کے دوران کی۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا:

"اگر میں درمیان میں نہ آتا تو دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑی جنگ چھڑ جاتی، اور یہ ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی تھی۔”

‘جنگ روکو، ورنہ تجارت بند’ — ٹرمپ کا دباؤ
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک پر اقتصادی دباؤ ڈالا اور صاف الفاظ میں کہا:

"میں نے بھارت اور پاکستان دونوں کو پیغام دیا کہ اگر جنگ بند نہ کی تو امریکا تم سے تجارت نہیں کرے گا۔”

یہ پہلی بار نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر بات کی ہو — اس سے قبل بھی وہ متعدد بار جنوبی ایشیاء میں قیامِ امن کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کر چکے ہیں۔

5 طیارے گرائے جانے کا دعویٰ
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے فضائی جھڑپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"درحقیقت، طیارے گرائے جا رہے تھے۔ چار، پانچ یا شاید پانچ طیارے۔ میرا خیال ہے کہ پانچ طیارے واقعی مار گرائے گئے۔”

تاہم انہوں نے ان دعوؤں کی مزید وضاحت یا شواہد فراہم نہیں کیے۔

پس منظر: پلوامہ حملہ اور بالا کوٹ فضائی کارروائی
یاد رہے کہ فروری 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ بھارت نے بالا کوٹ میں فضائی حملے کا دعویٰ کیا جبکہ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کر کے بعد میں رہا کیا تھا۔

تجزیہ: ٹرمپ کا اندازِ بیان اور جنوبی ایشیاء
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے براہِ راست اور نپے تُلے بیانات کے لیے مشہور ہیں، اور ان کے اس حالیہ بیان کو بھی جنوبی ایشیاء کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم حوالہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین اس دعوے کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر 2024 کے امریکی انتخابات کی تیاریوں کے تناظر میں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button