
اسلام آباد: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد کی عدالت میں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس میں آج سہ پہر 3 بجے بذریعہ ویڈیو لنک ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن کی عدالت میں ہوئی، جہاں علی امین گنڈاپور کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں آج ہی گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم جاری کیا، ساتھ ہی وارنٹ گرفتاری بھی نکال دیے۔
وکیل کا مؤقف: "یہ اکبر بادشاہ کی عدالت نہیں”
وزیر اعلیٰ کے وکیل ظہور الحسن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل سہ پہر 3 بجے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا قانونی بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ دورانِ سماعت وکیل نے کہا:
"اگر ہم بیان ریکارڈ نہیں کراتے تو عدالت بتائے کہ کون سے قانون کے تحت 342 کا حق ختم ہو گا؟ یہ اکبر بادشاہ کی عدالت نہیں جہاں درخواستیں مسترد کر دی جائیں۔”
اس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ عدالتی حکم میں تمام نکات واضح طور پر درج ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
عدالت میں ویڈیو بیان کے لیے انتظامات مکمل
عدالت نے واضح کیا کہ کمرۂ عدالت میں ویڈیو بیان کے لیے ایل سی ڈی اسکرین اور تکنیکی سہولیات موجود ہیں، لہٰذا عدالت کو کسی اور مقام پر جانے کی ضرورت نہیں۔ بعد ازاں 3 بجے تک سماعت ملتوی کر دی گئی تاکہ علی امین گنڈاپور کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا جا سکے۔
پس منظر: دفعہ 342 کا سوالنامہ
عدالت نے 17 مئی 2024ء کو علی امین گنڈاپور کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت سوالنامہ فراہم کیا تھا۔ یہ قانونی تقاضا ملزم کو اپنے خلاف شواہد پر مؤقف پیش کرنے اور وضاحت کا موقع دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔