سائنس ٹیکنالوجی

سینیٹ میں 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی پابندی کا بل پیش

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — سینیٹ میں ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے جس میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد کم عمر بچوں کو آن لائن استحصال، سائبر بُلنگ اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔

بل کن سینیٹرز نے پیش کیا؟
یہ بل سینیٹر سرمد علی اور سینیٹر مسرور احمد نے مشترکہ طور پر پیش کیا، جسے ملک میں بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں تجویز
بل کے تحت:

اگر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم نابالغ (16 سال سے کم عمر) صارف کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دیتا ہے تو اس پر 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

نابالغ افراد کو اکاؤنٹ بنانے میں مدد فراہم کرنے والے افراد کو چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نگرانی کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟
اس بل میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو باقاعدہ طور پر ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ قواعد و ضوابط مرتب کرے اور ان پر عمل درآمد کروائے تاکہ اس قانون کا دائرہ کار مؤثر بنایا جا سکے۔

ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک اہم قدم
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل ملک میں ڈیجیٹل اسپیس میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک مثبت اقدام ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی عمر کی تصدیق کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button