ایران کی سفارت کاری کی جانب پیش قدمی: جوہری پروگرام پر تین یورپی ممالک سے مذاکرات پر آمادگی
تہران / استنبول: مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے ایک مثبت پیش رفت، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات ایرانی میڈیا نے رپورٹ کی ہے، جسے عالمی سطح پر سفارتی عمل کی بحالی کی ایک اُمید افزا علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات استنبول میں آئندہ جمعے کے روز ہوں گے، جن میں ایران، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ ان مذاکرات کا مقصد جوہری تناؤ کو کم کرنا اور اعتماد سازی کے ذریعے دوبارہ سفارتی عمل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
🤝 سفارتی مکالمہ، پابندیوں سے بچاؤ کا راستہ
یورپی ممالک نے حالیہ ہفتوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران جوہری مذاکرات کی بحالی پر آمادہ نہ ہوا تو اسے ممکنہ طور پر عالمی سطح پر نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کو اس پس منظر میں ایک تعمیری اور مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے، جو علاقائی اور عالمی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
📢 ایرانی مؤقف: نئے فریم ورک پر بات چیت کی خواہش
ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران پرانے 2015 معاہدے پر واپس نہیں جائے گا، کیونکہ ان کے بقول اب اس معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے یورپی ممالک کے پاس کوئی قانونی، سیاسی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ تاہم ایران کی جانب سے بات چیت پر آمادگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ نئے متوازن فریم ورک کے تحت معاملات کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
🌐 امید کی کرن: سفارتی عمل کا احیاء، کشیدگی میں ممکنہ کمی
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف ایران اور یورپی یونین کے تعلقات کو بہتری کی طرف لے جا سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور عالمی منڈی میں استحکام کے لیے بھی مددگار ہو گی۔ خاص طور پر توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سیکیورٹی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
تہران / استنبول: مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے ایک مثبت پیش رفت، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات ایرانی میڈیا نے رپورٹ کی ہے، جسے عالمی سطح پر سفارتی عمل کی بحالی کی ایک اُمید افزا علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات استنبول میں آئندہ جمعے کے روز ہوں گے، جن میں ایران، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ ان مذاکرات کا مقصد جوہری تناؤ کو کم کرنا اور اعتماد سازی کے ذریعے دوبارہ سفارتی عمل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سفارتی مکالمہ، پابندیوں سے بچاؤ کا راستہ
یورپی ممالک نے حالیہ ہفتوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران جوہری مذاکرات کی بحالی پر آمادہ نہ ہوا تو اسے ممکنہ طور پر عالمی سطح پر نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کو اس پس منظر میں ایک تعمیری اور مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے، جو علاقائی اور عالمی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایرانی مؤقف: نئے فریم ورک پر بات چیت کی خواہش
ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران پرانے 2015 معاہدے پر واپس نہیں جائے گا، کیونکہ ان کے بقول اب اس معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے یورپی ممالک کے پاس کوئی قانونی، سیاسی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ تاہم ایران کی جانب سے بات چیت پر آمادگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ نئے متوازن فریم ورک کے تحت معاملات کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
امید کی کرن: سفارتی عمل کا احیاء، کشیدگی میں ممکنہ کمی
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف ایران اور یورپی یونین کے تعلقات کو بہتری کی طرف لے جا سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور عالمی منڈی میں استحکام کے لیے بھی مددگار ہو گی۔ خاص طور پر توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سیکیورٹی پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔