ڈونگا گلی: مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے اہم سیاسی اور عوامی فلاحی امور پر ایک طویل مشاورتی اجلاس کیا، جس میں پارٹی صدر نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریک ہوئیں۔ یہ ملاقات ملکی سیاسی منظرنامے میں سنجیدہ حکمت عملی، عوامی خدمت اور اتحادی ہم آہنگی کی روشن مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مشاورتی بیٹھک میں پنجاب کابینہ میں توسیع، نئے چیئرمین الیکشن کمیشن کے لیے ناموں پر غور، اور مجوزہ آئینی ترمیمی بل پر قانون سازی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی ہم آہنگی اور اتحادیوں کی شمولیت پر زور
نواز شریف نے اس موقع پر زور دیا کہ ملکی آئینی، سیاسی اور انتظامی فیصلوں میں اتحادی جماعتوں کو آن بورڈ رکھا جائے اور ان کی آراء کو مقدم جانا جائے۔ یہ پیغام سیاسی اتفاق رائے اور جمہوری اقدار کے فروغ کی علامت ہے، جس سے ملک میں سیاسی استحکام اور اعتماد سازی کو تقویت ملے گی۔
سیلاب متاثرین کے لیے ہمدردانہ ہدایات
نواز شریف نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ سیلاب متاثرہ غریب عوام کے نقصانات کا تفصیلی سروے کرایا جائے اور انہیں معقول مالی معاوضہ فراہم کیا جائے، تاکہ وہ دوبارہ معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ یہ اقدام عوامی فلاح اور حکومتی احساسِ ذمہ داری کا مظہر ہے۔
کابینہ میں توسیع: بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب قدم
پنجاب کابینہ میں ممکنہ توسیع پر بھی مشاورت ہوئی، جس کا مقصد بہتر طرز حکمرانی، عوامی مسائل کا فوری حل اور مختلف شعبہ جات میں کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
یہ مشاورتی بیٹھک اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت عوامی فلاح، سیاسی استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے ایک صفحے پر ہے اور آئندہ دنوں میں مزید مثبت پیشرفت متوقع ہے۔





