واشنگٹن/بیجنگ: دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں برس اکتوبر کے آخر یا نومبر کے آغاز میں چین کے دورے کا امکان ہے، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر معاشی استحکام اور سیاسی توازن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ ملاقات ایشیا پیسفک اکنامک سمٹ کے موقع پر جنوبی کوریا میں بھی ہو سکتی ہے، جہاں دونوں رہنما شریک ہوں گے۔ اگر ملاقات طے پا جاتی ہے تو یہ کئی برسوں میں امریکا اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی براہِ راست روابط کی ایک اہم مثال ہو گی۔
دونوں ممالک کے درمیان رواں برس ملاقات کے امکان پر بات چیت جاری رہی ہے، تاہم حتمی تاریخ اور مقام کی تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔ اس پیش رفت کو عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں درآمدات پر 10 فیصد بیس ٹیرف کی تجویز دی ہے، جبکہ چین جیسے حریف ممالک پر امریکی ٹیرف کی شرح 55 فیصد ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان براہ راست بات چیت ہوتی ہے تو تجارتی کشیدگی کم کرنے اور متوازن پالیسیاں وضع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکا-چین مذاکرات عالمی معیشت کے لیے نیک شگون
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت عالمی تجارتی ماحول کے لیے ایک خوش آئند قدم ہو گا، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا بلکہ دنیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز، جیسے ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی امن، پر بھی مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔





