
کوئٹہ – بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور سینئر سیاستدان سردار اختر مینگل کو دبئی روانگی سے قبل امیگریشن حکام نے پرواز سے آف لوڈ کر دیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق، ان کا نام پرویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ (PNIL) میں درج ہونے کے باعث بیرون ملک سفر سے روکا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اختر مینگل دبئی جانے والی ایک نجی ایئرلائن کی پرواز پر سوار ہونے والے تھے کہ امیگریشن چیک کے دوران ان کا نام PNIL میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔
ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا:
"میں دبئی جا رہا تھا، مگر بغیر کسی مقدمے یا نوٹس کے مجھے روک دیا گیا۔ صرف بتایا گیا کہ میرا نام لسٹ میں شامل ہے۔”
بی این پی کے رہنماؤں نے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ اور غلام نبی مری نے اسے غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل تاحال رکن قومی اسمبلی ہیں اور ان کا استعفیٰ بھی منظور نہیں ہوا، لہٰذا ان پر سفری پابندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ:
سردار اختر مینگل کا نام فوراً PNIL سے نکالا جائے۔
معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔
متعلقہ ادارے اس فیصلے کی وضاحت پیش کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ اقدام ملک کی جمہوری روایات اور سیاسی آزادیوں پر سوالیہ نشان ہے اور مستقبل میں ایک نئے سیاسی تنازعے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔