
اسلام آباد – پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کی جانب سے لیجنڈز کرکٹ لیگ میں پاکستان کے خلاف نہ کھیلنے کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کھیل جیسے عالمی امن اور بھائی چارے کے پیامبر پلیٹ فارم کو بھی بھارتی کھلاڑیوں نے نفرت، تنگ نظری اور تعصب کا نشانہ بنا دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ بھارت نہ میدانِ جنگ میں کامیاب ہو سکا، نہ سفارت کاری میں اور اب کھیل کے میدان سے بھی فرار اختیار کر رہا ہے۔ "پاکستان کا نام سنتے ہی مودی سرکار کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی کھلاڑیوں کے اس طرزِ عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت کھیل کے عالمی اصولوں اور اسپورٹس مین شپ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"کھیل ہمیشہ امن، رواداری اور باہمی احترام کی علامت ہوتے ہیں، لیکن بھارت نے یہاں بھی انتہا پسندی اور تنگ نظری کا راستہ اپنایا ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا رویہ نہ صرف کھیل کے جذبے کے خلاف ہے بلکہ خطے میں کھیلوں کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کی امیدوں کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔
پاکستانی کرکٹ حلقوں، ماہرین اور شائقین نے بھی اس بھارتی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کھیل کو سیاست کا یرغمال بنانا افسوسناک ہے۔
شیری رحمان نے واضح کیا کہ:
"نفرت کا ایجنڈا لے کر کھیل سے منہ موڑنا نہ صرف کھیل کے مستقبل بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے بھی خطرناک ہے۔”