واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک):
امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) اور وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کی اُس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب مکمل طور پر تباہ ہوئی، جبکہ دو دیگر پر جزوی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
مذکورہ رپورٹس امریکی میڈیا میں 5 موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے نشر کی گئی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کا فردا (Fordow) جوہری افزودگی مرکز شدید نقصان کا شکار ہوا، لیکن اصفہان (Isfahan) اور نطنز (Natanz) کی تنصیبات صرف چند ماہ کے لیے متاثر ہوئیں اور ان کی بحالی ممکن ہے۔
تاہم، پنٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ان رپورٹس کو “جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
"جعلی نیوز میڈیا کی ساکھ وہی ہے جو ایران کی موجودہ جوہری تنصیبات کی حالت ہے: تباہ، مٹی میں دفن، اور مکمل بحالی میں برسوں لگیں گے۔”
ترجمان نے مزید کہا کہ صدر کے بیانات واضح ہیں اور امریکی عوام بھی جانتے ہیں کہ فردا، اصفہان اور نطنز کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، اس میں کوئی ابہام باقی نہیں۔
اسی حوالے سے وائٹ ہاؤس نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے تحت ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام کو برسوں پیچھے دھکیلنا تھا، اور یہ ہدف مکمل طور پر حاصل کر لیا گیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تینوں تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ اور ناکارہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"اگر ایران چاہے گا تو اسے تین مختلف جگہوں پر نئے سرے سے آغاز کرنا ہو گا، اور اس میں کئی سال لگیں گے۔”
یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر بھی بحث جاری ہے۔





