
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی ٹکٹوں کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں بولیاں لگائی گئی ہیں، جس سے پارٹی کی اندرونی صورتحال اور قیادت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ "پارٹی ورکرز ہار گئے، نوٹوں کی چمک جیت گئی”۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکن خود اپنی قیادت کی اصل حقیقت عوام کے سامنے لا چکے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ "جو جماعت ماضی میں ہارس ٹریڈنگ کی مخالفت میں پیش پیش تھی، آج وہی سب سے بڑی ہارس ٹریڈنگ کی حمایتی بن چکی ہے۔”
وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی بھی سینیٹ ٹکٹوں کی مبینہ خرید و فروخت سے پوری طرح باخبر ہیں، اور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کر کے مالدار امیدواروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے، اور وہاں کے نوجوانوں کو اب یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ پی ٹی آئی نے انہیں صرف دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے اندرونی خلفشار اور اصولوں سے انحراف نے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ عوام حقیقت کو پہچانیں۔