
پشاور (خصوصی رپورٹ) – سینیٹ انتخابات کے سلسلے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی ہے، جہاں پارٹی کے ناراض امیدواروں اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ہونے والی مذاکراتی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ناراض امیدواروں میں عرفان سلیم، عائشہ بانو، ارشاد حسین اور وقاص اورکزئی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی نامزدگی سے دستبردار ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ ان ناراض رہنماؤں کی وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے ملاقات کرانے کے لیے متحرک تھے، تاہم ابتدائی ملاقات میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مزید یہ کہ ناراض امیدواروں کا مؤقف ہے کہ "ہم کسی صورت اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیں گے”، اور اُنہوں نے یہ شرط رکھی ہے کہ اگر ہمیں دستبردار کروانا ہے تو جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کو بھی ایک، ایک نشست سے دستبردار کیا جائے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں بھی سینیٹ ٹکٹوں کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کا مؤقف ہے کہ پارٹی کے دیرینہ اور وفادار کارکنوں کو ترجیح دی جائے، جبکہ ناراض امیدواروں کو عاطف خان، شیر علی ارباب اور جنید اکبر کی حمایت بھی حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور اور ناراض رہنماؤں کے درمیان دوسری اہم ملاقات آج رات 9 بجے متوقع ہے، جس میں کسی ممکنہ مفاہمت کی آخری کوشش کی جائے گی۔
یہ اختلافات نہ صرف پارٹی کی اندرونی یکجہتی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ آئندہ سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔